بنگلورو،19؍نومبر(ایس او نیوز) بنگلورو شہر کے ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی تشدد کے سلسلہ میں سابق میئر سمپت راج کی گرفتاری پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سابق ریاستی وزیر بی زیڈ ضمیر احمد خان نے کہا ہے کہ سمپت راج کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ پولیس نے انہیں بے وجہ گرفتار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی سی بی کی طرف سے اس معاملہ کی تفصیلی جانچ کے بعد درج کئے گئے ایف آئی آر میں سمپت راج کا نام شامل ہے اور اس کے ساتھ ہی اس کیس کی جانچ کرنے کے بعد سی سی بی نے عدالت میں جو چارج شیٹ داخل کی، اس میں بھی سمپت راج کو ملزم نمبر 51بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے سمپت راج کو اس کیس میں ضرورت پڑنے پر ہی گرفتار کیا ہے، انہیں بے وجہ حراست میں نہیں لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ شہر کی پولیس کے جی ہلی اور ڈی جے ہلی معاملہ کی پوری دیانت داری سے جانچ کر رہی ہے اورپولیس کی کارروائی پر انہیں اعتماد ہے۔ جہاں تک اس علاقے میں تشدد کے بعد بے قصور نوجوانوں کی گرفتاری اور ان پر یو اے پی اے قانون لگا کر انہیں جیل میں ڈال دینے کا معاملہ ہے کانگریس پارٹی کی طرف سے اس ضمن میں تشکیل دی گئی کمیٹی سکیولر ایڈوکیٹس فورم کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس علاقہ سے پولیس نے جن نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے ان کی رہائی کیلئے مسلسل قانونی جدوجہد جاری ہے۔ وکلاء کی کوششوں سے چند نوجوانوں کو ضمانت بھی ملی،لیکن پولیس کی طرف سے دیگر مقدمات میں انہیں دوبارہ قید کردیا گیا ہے، ان کی رہائی کے لئے قانونی جدوجہد میں کسی بھی طرح کی سست روی نہیں ہو گی، بلکہ وکلاء اور کانگریس کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی جس میں وہ خود بھی شامل ہیں اس کوشش میں مسلسل لگے ہوئے ہیں کہ جتنی جلدی ہو سکے تمام بے قصور نوجوانوں کو رہا کروائیں۔